بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا || گذشتہ دنوں، ملک کے سیاسی اور سلامتی سے متعلق واقعات، ـ جو اندرونی اور بین الاقوامی کشیدہ فضا میں رونما ہوئے، ـ رہبر معظم انقلاب اسلامی کے اہم بیانات سے جڑ گئے۔ ایسے بیانات جن پر نہ صرف ملک کے اندر وسیع پیمانے پر ردعمل دیکھا گیا، بلکہ انہیں غیر ملکی طاقتوں، خصوصاً ریاست ہائے متحدہ امریکہ کے لئے ایک تزویراتی پیغام کے طور پر بھی دیکھا گیا۔ اس موقف کا مرکزی محور، واشنگٹن کی ایران کو سیاست، سفارت کاری اور سلامتی کے میدان میں "غیر فعال" (منفعل) کرنے کے نئے منصوبے کا انکشاف تھا۔ یہ وہ منصوبہ تھا جسے آیت اللہ العظمیٰ امام خامنہ ای (حفظہ اللہ) نے صراحت اور فیصلہ کن انداز سے، چیلنج کیا۔
رہبر انقلاب نے یہ موقف اختیار کرکے درحقیقت "طاقت کے ذریعے امن" کی اس حکمت عملی کو شدید چیلنج سے دوچار کر دیا جو ٹرمپی سفارت کاری کا مطلوبہ ماڈل ہے۔
امریکہ کی موجودہ حکومت فوجی طاقت کے مظاہرے، نفسیاتی جنگ اور اقتصادی دباؤ کے ذریعے کوشش کر رہی ہے کہ حریف کو خوف اور انفعالیت سے دوچار کرکے اسے ہتھیار ڈالنے پر مجبور کرے۔ یہ بالکل وہی نمونہ ہے جو اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف اختیار کیا جا رہا ہے: خوف اور عدم تحفظ پیدا کرنے اور بحری جہاز بھیجنے جیسے مناظر تخلیق کرنے کے ذریعے، ایرانی قوم کو ذہنی، سیاسی اور سفارتی طور پر غیر مسلح کرنا۔
ایسی صورت حال میں، آیت اللہ العظمیٰ امام خامنہ ای (حفظہ اللہ) کی حکمت عملی کے دو بنیادی پہلو ہیں:
اول: قومی اعتماد کو مضبوط کرنا اور دشمن کی نفسیاتی جنگ کے سامنے معاشرے کو ہتھیار ڈالنے کی صورت حال سے محفوظ رکھنا۔
حقیقت یہ ہے کہ اگر ایران جنگ کے خوف سے اپنی طاقت کے عناصر ـ بشمول پرامون ایٹمی صلاحیت، میزائل طاقت اور علاقائی تزویراتی ـ کو ترک کر دیتا ہے، تو عملی طور پر وہ بغیر کسی لڑائی کے ہار جائے گا، اور جس جنگ سے بچنے کے لئے ان عناصر کو ترک کرنے کی تجویز دی جا رہی ہے، ایسا کرکے ایران عملی طور پر ایک نہ ختم ہونے والی جنگ سے دوچار ہو جائے گا۔
دوئم، ملکی دفاعی صلاحیت پر بھروسہ کرتے ہوئے، اور اللہ کے اٹل وعدوں کا سہارا لیتے ہوئے حقیقی تخویف و تسدید (Deterrence) کو مضبوط کرنا:
یہاں جابر دشمن کو ایک واضح پیغام دیا گیا کہ کسی بھی فوجی مہم جوئی کی قیمت اس کی برداشت کی حد سے باہر ہوگی۔
دوسری طرف سے، رہبر انقلاب نے واضح کیا کہ طاقت کی زبان نہ صرف میدان جنگ میں، بلکہ سفارت کاری کے میدان میں بھی با معنی ہے۔ جب دشمن محسوس کرے کہ مذاکرات کی میز پر ایرانی قوم کے پاس میدان کی طاقت اور فوجی ڈیٹرنس بھی ہے، تو ایرانی سفارت کاروں کے رعایتیں حاصل کرنے کے امکانات کئی گنا بڑھ جاتے ہیں اور عملی طور پر رعایتیں لینے ایران کی مذاکراتی ٹیم کا ہاتھ بھر جاتا ہے۔ اسی لئے، رہبر انقلاب کے حالیہ موقف کو ایک لحاظ سے "ایرانی مذاکراتی ٹیم کے لئے پشت پناہی" قرار دیا جا سکتا ہے، کیونکہ جب بھی ایران نے خود کو طاقتور، بااختیار اور تیار دکھایا ہے، حریف کے لئے رعایتوں کا حصول مشکل ہو گیا ہے۔
ایران بمقابلہ ایران: ایک حساس منظر کشی کا جائزہ
پچھلے ڈیڑھ ماہ کے دوران، اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف امریکی حکومت کی سازشی منصوبہ بندی میں حساس پیش رفت دیکھی گئی۔ کرنسی کی جنگ اور معاشی بدحالی پیدا کرنے سے لے کر، فسادات کے نیٹ ورک کو فعال کرنے اور فتنہ، تخریب کاری اور سڑکوں پر دہشت گردی کو عملی شکل دینے تک۔
اس کے برعکس، رہبر انقلاب سب سے پہلے "احتجاجی" اور "فسادی" کے درمیان فرق کے قائل ہوئے، عوام کے جائز تحفظات کو تسلیم کیا اور دوسری بات، سڑکوں پر دشمن کی جنگ اور نظام الٹنے کے منصوبے کے مقابلے میں مضبوطی سے کھڑے ہو گئے۔
دوسری طرف، قیادت کے مطالبے پر لبیک کہتے ہوئے عوام کی طرف سے 12 جنوری اور 11 فروری کو کروڑوں ایرانیوں کے مظاہروں کا تجربہ، فسادات کے منصوبوں کی ناکامی اور ایران کی اسٹراٹیجک فتح کی ایک روشن علامت تھی۔ یہ وہ قوم ہے جس نے ایران کی گلیوں کو اجنبیوں کے طاقت کے مظاہرے کا میدان بننے نہیں دیا۔
جس چیز کو آیت اللہ العظمیٰ امام خامنہ ای (حفظہ اللہ) نے ہدف قرار دیا وہ یہ ہے کہ "دشمن ایران کی قومی طاقت کے عناصر کو ختم کرنے میں مصروف ہے؛ یا دباؤ، یا ڈرانے دھمکانی اور دہشت گردی اور نفسیاتی جنگ کے ذریعے، یا فوجی کارروائی اور شرپسندی کے ذریعے لیکن اس فارمولے میں تبدیلی لانے والی چیز عوام کی خوداعتمادی، عوام کا اپنے نظام پر اعتماد، بصیرت، تیاری اور چوکسی ہے تاکہ وہ خوف اور انفعالیت کا شکار نہ ہوں اور ملت ایران اپنی طاقت اور قومی سلامتی کے عناصر کی حفاظت کر سکے۔
اس نقطہ نظر سے، رہبر انقلاب کا موقف "ایران کے قومی مفادات اور سلامتی کے تحفظ" اور قومی خوداعتمادی کو مضبوط کرنے کی سمت ایک بنیادی اقدام ہے۔ یہ وہ حکمت عملی ہے جس میں میدان اور سفارت کاری (مسلح افواج اور قومی سفارت کاری)، ملک کے وقار کے بقا اور سلامتی اور قومی مفادات کے حصول کے لئے ایک دوسرے کو پشت پناہی فراہم کرتے ہیں۔
آخر میں، رہبر معظم انقلاب کے حالیہ بیانات دشمن کی "مخلوط جنگ" (Hybrid War) کا واضح جواب تھے: ایران وہ ملک نہیں ہے جو دھمکیوں اور دباؤ سے منفعل (غیر فعال) ہو جائے۔ بلکہ یہ عوام کے ایمان اور ہوشیاری، فوجی طاقت اور قومی اتحاد اور اعتماد پر بھروسہ کرتے ہوئے اس مقام پر پہنچ گیا ہے کہ ہر خطرے کو اپنی طاقت و عظمت کا سرچشمہ بنا دیتا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تحریر: مہران کریمی
ترجمہ: ابو فروہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ